پیاس کا خوف
اور تھکا دینے والی سوچ۔۔۔
بے تکی، بے لگام دِماغی گردِشوں میں
رگڑے بے معنی الفاظ
اور پیدا کیے نئے الفاظ
جیسا کہ
سوچ اور پیاس کی مدہوشی
لیکن گردِش ہے کہ پلٹتی ہے
اور پھر معنی کی تلاش میں دور نکل جاتی ہے
پر لفظ کہیں ختم نہیں ہوتے
نئے لفظوں سے ڈر آتا ہے
کہ یہ اِختتام کو کہیں دور لے جاتیں ہیں
پیاس، سوچ، گردِش اور الفاظ
سب گُڈ مُڈ ہو جاتے ہیں
لفظوں پہ ٖلفظوں کی اُلٹی کیے جانا
بے معنی ہے
اور پھٹ جانے کی حد تک محدود
لیکن معنی کی تلاش کسے کہتے ہیں؟
گردِش ہے اِک بس
پلٹتی ہے
بل کھاتی ہے
اور ایک چھوٹی سی قلابازی کھا کہ
اپنی راہ کو ہوتی ہے۔۔




0 comments:
Post a Comment